منگلورو:22/نومبر (ایس او نیوز)مرکزی حکومت کی طرف سے مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کئے جانے اور یکساں سول کوڈ کونافذ کئے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مسلم سنٹرل کمیٹی کی زیر قیادت منگلورو کے نہر ومیدان میں ’’ شریعت تحفظ اجلاس ‘‘پرعظیم الشان اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام مکبت فکر کے علمائ ایک ہی اسٹیج پر جلوہ افروز ہوتے ہوئےمودی حکومت کو اسلامی شریعت میں دخل اندازی کی کوشش کرنے پر آڑے ہاتھ لیا۔
اجلاس سے جماعت اسلامی ہند منگلورو کے صدر محمد کوئیں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دراصل مسلم پرسنل لاء میں مداخلت سنگھ پریوار کا سیاسی ایجنڈا ہے، مودی حکومت انگریزوں کی طرح پھوٹ ڈالنے والی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے مداخلت کے پس منظر کو واضح کرتے ہوئے کہاکہ ملک بھر میں دلت اور طلبا کی تنظیمیں ، ادارے ایک زبردست قوت بن کر آتش فشاں کی طرح پھیلتے دیکھ کر گھبرائی مرکزی حکومت نے یکساں سول کوڈ کا شوشہ چھوڑاہے، کثرت میں وحدت والے ملک میں یکساں سول کوڈ نہیں، بلکہ عام کوڈ بھی جاری کرنا ناممکن ہونے کی بات ملک کے بزرگ وکیل رام جیٹھ ملانی نے واجپائی حکومت کے دوران ہی کہہ دی تھی ۔ محمد کوئیں نے کہاکہ اس ملک میں کونسا قانون جاری ہونا چاہئے اس تعلق سے عوامی رائے طلب کرے۔ ابھی تک یکساں سول کوڈ کے متعلق کوئی قانون کی تشکیل تک نہیں ہوئی ہےاور نہ ہی عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے ، ایسے ایک قانون کو ملک میں جاری کرنےکی کوشش کرنا بے وقوفی کا کام ہے۔

اجلاس سے ریاستی کابینہ کے غذااورعوامی سپلائی کے وزیر یوٹی قادر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملک کے لئے بھارت رتن امبیڈکر کا دیا ہوا دستور اعلیٰ دستور ہے، ہر ایک ہندوستانی اس کو تقدس کی نگاہوں سے دیکھتاہے، ایک ہی نہیں ایسے 10نریندر مودی آئیں تو بھی ملکی دستور کو بدلناناممکن ہے، ان حالات میں ہم تمام کو یکساں سول کوڈ کے متعلق گہری سنجیدگی اور شعورکے ساتھ غوروفکر کرنےکی ضرورت ہے۔ اس معاملے میں دیگر تمام طبقات سے بھائی چارہ کا برتاؤ کرتے ہوئے پیار ومحبت کے ذریعے آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں فرقہ پرستی کے لئے کوئی مقام نہیں ہے، اگر اقلیتیں فرقہ پرست ہوتے ہیں توخود ان کے لئے خطرہ ہے، اکثریتی طبقہ فرقہ پرست ہوتاہے تو پورے ملک کے لئے خطرہ ہے۔ ان حالات میں ہم سب کو متحد ہوکر بہتر زندگی گزارنی ہوگی ، سب ہنسی خوشی زندگی گزاریں اور آگے بڑھیں تاکہ ملک ہر جہت پر ترقی کرے۔ مسلم سنٹرل کمیٹی کے صدر حاجی کے ایس محمد مسعود نے اجلاس کی صدارت کی۔ مولانا صداقت اللہ فیضی نے دعا کی۔ اس موقع پر منگلورو سطح کے تمام جماعتیں ، ادارے ، تنظیمیں ، سیاسی نمائندے وغیرہ موجود تھے۔اس سے قبل مولوی عبدالقادر مسلیار نے پروگرام کا افتتاح کیاتھا۔ کافی کثیر تعداد میں لوگوں نے پروگرام میں شرکت کی، جبکہ کئی ایک خطاب کے دوران حاضرین نے نعرہ تکبیر کی صدائیں بلند کیں اور اس بات کا ثبوت پیش کیا کہ شریعت میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔